Saturday, November 8, 2008

Kalam-e-Sahil~

also
visit:

www.yaad.uni.cc

Poet's Personal Website





 



اخلاص کی قیمت ہے تیرے دربار میں مولا

توبہ سے وِلایت ہے تیرے سنسار میں مولا


اِن بھیگی نِگاہوں سے دو قطرے گرا کر

لایا ہوں حضور تیری سرکار میں مولا


تو دیتا رہا اِتنا کہ شُکر بھی کم تھا

ہر لحظہ تیرے حضور شرمسار مےں مولا


سرکار (صلی اللہ علیہ وسلم) کی سُنت میں رنگ تیرا ہے

آجائے تیرا رنگ میرے کِردار میں مولا


دُنیا سے اُٹھانا مجھے درِ حالتِ سجدہ

اور مے بھی پِلانا تیرے دیدار میں مولا







جفا پہ بھی تیری وفا کریں گے ہم

ہراک ادا پہ تیری گے ہم


وجود میرا اگر بھَلا نہ لگے

تو کہے گا تو نہ رہیں گے ہم


ڈھونڈا بہت، جانِ تمنا تم کو

اب ہے ٹھانا کہ نہ ملیں گے ہم






عاشقی ہم نے بھی کرکے دیکھی ہے

اک عمر تیرے نام کرکے دیکھی ہے


تیرے کوچے پہ گُزر گئی صدیاں

تیری گلی میں عمر تمام کرکے دیکھی ہے


رات بھر برسا تھا دل کا بادل

تیرے در پہ آخری شام کرکے دیکھی ہے








چشمِ تصّور کو محبت کا سلیقہ جانا

اِک یہی یار سے مِلنے کا طریقہ جانا


لذتِ یاد کی طرب پہ ہوئے رقصاں یوں

اب تو شاہراہ کو بھی میخانے کا زینہ جانا


اب تو میخانہ سے شاید نا لوٹیں ہم

اتنی پی لی ہے کہ مے یار کا پسینہ جانا






محفلِ شب ہے سجا دو میخانہ

پلا پلا کے مُجھے بنادو میخانہ


آج شب بھر شمع نہ بُجھنے دو

لہو پلائو اُسے جلادو میخانہ


شراب تھوڑی سی بہا دو روزن سے

تیری دہلیز پہ کب سے کھڑا ہے مستانہ


تیری گلی سے گُزر کے زاہد بدمست ہوا

کیسا پردہ تیرا، کیسا یہ شرمانا


میرے کی آخرکوئی انتہا تو ہو

توڑ دو سارے ساغر، جلادو میخانہ


ساقی ساغر ہے تیرا میرا رِشتہ

معطر نظریں مری، پاک تیرا میخانہ (معطر ۔ ‘ع‘ بِدون تشدید)






سینے میں لگی آگ کو کیسے میں بُجھائوں

نینوں میں بھرے ابر کو کیسے میں بہائوں


ہر بات پہ غلطی در غلطی جو ہوئے ہے

اِس شرم کے احساس کو میسے میں چھُپائوں


جب ہُجمِ خیالات میں الفاظ ہوں کم

پھر غزل کے دیوان کیسے میں بنائوں


بے آہ جو روتی ہیں اس دل میں ہزاروں

اِن درد کی ٹیسوں کو کیسے میں سُلائوں



دل میں بھی ہوکے جو سامنے بھی نہ ہو

اِس درد کے احساس کو کیسے میں بتائوں






یادِ ماضی کے فسانے آج تک وہ یاد ہیں

رہ گئے تھے جو سُنانے آج تک وہ یاد ہیں


بارشوں کے موسموں میں بادوباراں کی طرح

ہم گئے تھے جو بہانے آج تک وہ یاد ہیں


ٹوٹ کر موتی گرے تھے آنکھیں گیلیں جو ہوئی

جُھک گئے تھے جو اُٹھانے آج تک وہ یاد ہیں


آنکھیں نیچی کر کے گُزرے، ہونٹوں پہ مُسکان تھی

تیری اُلفت کے زمانے آج تک وہ یاد ہیں


دل اُٹھے گا جھوم جو یہ اگر کہدیں وہ کیف ~

پچھلی گلی کے کُچھ دیوانے آج تک وہ یاد ہیں






میری سماعتوں میں تیرے قہقہے سے گونجتے ہیں

میری نِگاہوں میں کئی بُلبلے سے پھُوٹتے ہیں


دل کا کیا ہے رولے گا غم میں

دل کو رکھا ہے چھُپا کے نم میں


میری آنکھوں میں ہر بل توہی جلوہ افروز

تیری یادوں کے گُلاب میرے خیالوں میں مہکتے ہیں


گو کہ جذبات کا دامن ذرا کمزور سہی

پھر بھی آنکھوں سے کئی بار ہمی روکتے ہیں


یہ مرضِ عشق ہمیں ہی کیوں کیف~

تیری ہی گلی میں آکے کیوں چوکتے ہیں






کیوں لب حسیں خاموش ہیں، کیوں دل اُداس اُداس ہے

کیوں بےخودی کا سنگ ہے، کیوں نہ کوئی آس پاس ہے


کیوں باغ میں رونق نہیں، کیوں گُلابِ دل کھِلا نہیں

کہاں ذوق بُلبل کا گیا، کیوں شجرِ برگد اُداس ہے


کیوں جام میں رات بھر چہرہ تیرا چھلاتا رہا

پیتا رہا میں رات بھر ، بجھتی نہیں کیا پیاس ہے


یہ دوریاں یہ رفاقتیں، یہ فاصلے یہ منزلیں

کیوں سُرمئی سی شام ہے، کیوں دل کا پنچھی اُداس ہے


کیوں کانچ دل میں تھا چُبھ گیا، کیوں جام لرزا سا گیا

کیوں بِجلیاں ٹوٹی یہاں، کیوں جلوہ تیرہ خاص ہے